ولایت آفریدی درہ آدم خیل کے مشہور قومی شخصیت ملک گل سنہ دین مرحوم سکنہ قوم شیراکی مزیدخیل کا بیٹا تھا. ولایت آفریدی بچپن سے دوست مزاج تھا. ولایت آفریدی بڑا ہو کر پہلی بار وہ مزدوری کے لئے دوبئی گیا تھا وہاں دوبئی میں تقریباً 15 سال ڈرائیورنگ مزدوری کر کے گزرا تھا
ولایت آفریدی دوست مزاجی کے ساتھ ساتھ انتہائی قوم پرست بھی تھا. دوبئی میں کئی بار انڈیا پاکستان تنازعات پر وہاں انڈین لوگوں سے بھی پاکستان کے محبت پر لڑ جیل بھی جا چکے تھے. وقت کے ساتھ ساتھ ولایت آفریدی نے دوبئی چھوڑ کر پاکستان میں کبھی ڈرائیورنگ اور کبھی پاکستان کے مختلف شہروں میں ہوٹل کا کاروبار کرتے رہے. ولایت آفریدی کا والد ایک کاروباری شخصیت کے ساتھ ساتھ کوہاٹ پولٹیکل انتظامیہ میں ایک بہت بڑے حاضر جواب رہنما سے مشہور تھے. ولایت آفریدی کا والد اکثر حکومت کے سڑکوں کا ٹیکے لے کر پاکستان کے کئی ضلعوں میں یہ کام کر چکے تھے.
ولایت آفریدی دوبئی چھوڑنے کے بعد مختلف کام کر کے بالآخر انکے والد نے اسکو درہ آدم خیل کے خاصدار فورس میں بھرتی کردیا. جس میں وہ کئی سال ڈیوٹی کر چکے ہیں. 2008 میں درہ آدم خیل میں طالبئزشن شروع ہوتے ہی درہ آدم خیل کے تمام خاصدار اسی وجہ سے ڈیوٹی کرنے سے دور ہونے لگے.
ولایت آفریدی خاصدار ڈیوٹی کے بعد پھر کبھی ڈرایئورنگ کبھی ہوٹلز کا کام کرتے رہے. لیکن اکثر ان دہشت گردی کی نام پر جنگ بے روزگار رہے.
نقیب اللہ محسود کی کراچی میں شہادت کے بعد ولایت آفریدی منظور احمد پشتون کی قبائلی نوجوانوں کے قتل عام آواز بلند کرنے پر منظور پشتون کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا. منظور پشتون سے قریبی تعلقات پر کچھ سال قبل کوہاٹ انتظامیہ نے ولایت آفریدی کو گرفتار کر کے 3 mpo کے تحت 6 مہینے قید کر کے کوہاٹ جرما جیل منتقل کردیا. چند دن بعد ولایت کے بھائی ملک شوکت نے کوہاٹ میں پریس کانفرنس کر کے کہا کہ میرے بھائی ولایت آفریدی کا PTM سے کوئی تعلق نہیں لہذا اسے کو فوری رہا کریں. دوسرے روز جب ولایت آفریدی کو پتہ چلا کہ میرے بھائی نے اسطرح پریس کانفرنس کیا تو ولایت آفریدی جیل سے سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا کہ میرا تعلق PTM سے ھے اور میں PTM کے لئے جیل کے علاوہ بھی ہر قسم کے قربانی کو تیار ھوں. لہذا میرے بھائی کا بیان سراسر غلط ہے.
ولایت آفریدی نے اس قبائل پرستی پر پورا 6 مہینے قید گزار کر منظور پشتون کو ولایت آفریدی درہ آدم خیل میں ایک سرکردہ رہنما کے طور پر ٹاپ لیڈر شپ کا اعزاز حاصل کیا.
منظور پشتون کئی بار ولایت آفریدی کے ہجرے آکر ان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا.
ولایت آفریدی PTM کے بعد درہ آدم خیل کے عوام میں اس وقت انتہائی مقبولیت حاصل کی جب حکومت پاکستان نے بلجبر فاٹا انضمام کے ظالمانہ سائے قبائل پر اتار دیئے. ولایت آفریدی درہ آدم خیل کے مختلف تنظیموں سے بلجبر فاٹا انضمام کے خلاف درہ آدم خیل سے لیکر پشاور اور اسلام آباد کے احتجاجی مظاہروں پرجوش انداز میں شریک ہوتے تھے.
وقت کے ساتھ ساتھ حکومت نے بلجبر فاٹا انضمام کر کے دیگر قبائل کے ساتھ ساتھ یہاں درہ آدم خیل میں پولیس نظام شروع کردیا جسکے خلاف ولایت آفریدی سمت پورا قوم سراپا احتجاج تھا.
اسی اثنا میں ولایت آفریدی اور اسکے چند ساتھیوں نے بلجبر فاٹا انضمام کے خلاف کالے جھنڈوں کا ایک تنظیم بنا دیا. یہ تنظیم بہت کم وقت میں ولایت آفریدی اسکے ساتھیوں نے درہ آدم خیل کا مضبوط ترین تنظیم بنا دیا. اس تنظیم نے درہ آدم خیل میں پولیس گردی کے خلاف کھل کر مزاحمت شروع کردی. جہاں بھی مقامی خاصداروں نے اپنے اپکو پولیس ظاہر کر کے ولایت آفریدی اور اسکے ساتھیوں نے اسکو ایسا عبرت کا نشان بنا دیتے کہ وہ دوبارہ اسطرح کرنے استغفار کرتے رہے.
درہ آدم خیل میں کوہاٹ انتظامیہ کی پولیس نظام کامیابی ہر ممکن کوشش ولایت آفریدی ناکام کرتے رہے ھتکہ کہ کئی بار کالے جھنڈوں کے تنظیم نے پولیس آفیسر کی درہ آدم خیل میں مداخلت پر انکے گاڑی بھی جلا کر راکھ کر دیا گیا تھا.
کوہاٹ انتظامیہ جب مقامی اس قومی کالے جھنڈوں کے تحریک کے سامنے بے بس ہو گئے. تو کوہاٹ انتظامیہ نے خفیہ طور پر ولایت آفریدی کو کچھ اھم لوگ بیجھے. اور ولایت آفریدی کو کہا کہ آپ اپنے خاصدار نوکری پر واپس آجائیں. ھم اپکو درہ آدم خیل پولیس میں آپکو اچھے عہدے پر فائز کرینگے.
ولایت آفریدی نے اس وفد کو جواب دیا. کہ یہ درہ آدم خیل کی دھرتی میری ماں ھے. اور ھم نے اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ جب تک درہ آدم خیل بشمول پورے قبائل میں فاٹا کا اپنا نظام دوبارہ نافذ نہ ہو گا. اس وقت تک ھم بلجبر فاٹا انضمام کے خلاف قبائل کے ہر آئینی اور قانونی فارم سے لڑونگا. خواہ اس میں میری جان چلی جائے.
شہید ولایت آفریدی درہ آدم خیل کا واحد شخصیت ھے جس نے اپنا سرکاری خاصدار فورس ڈیوٹی بلجبر فاٹا انضمام کے خلاف کی وجہ سے چھوڑ کر قوم کی بقا کے خاطر بے روزگاری کا زندگی گزارتا رہا.. اسی وجہ سے ولایت آفریدی نے انتہائی کم وقت درہ آدم خیل کا مقبولیت ترین شخص بن گیا.
اسی وجہ سے درہ آدم خیل کے تاریخ میں پہلی بار ولایت آفریدی کے قتل پر گزشتہ روز قومی لشکر کشی ہو کر انکے قاتل ڈھونڈتے رہے. ھتکہ قومی لشکر اس حد تک غصے میں تھے. کہ ولایت آفریدی کے بھائی ملک شوکت کو براہ راست اپنے ھجرے میں دھمکی دی کہ ولایت آفریدی کا تدفین اس وقت ہر گز نہ کرو جب تک ھم اسکا قاتل کیفرکردار تک نہ پہنچائے..
درہ آدم خیل کے نوجوانوں کو چاہئے کہ ولایت آفریدی کی قتل کے بعد بلجبر فاٹا انضمام کا جہدو جہد جاری رکھیں. کیونکہ اگر ولایت آفریدی کے قتل کے بعد اس قوم نے بلجبر فاٹا انضمام کے خلاف اس تحریک کو کمزور کر دیا تو عنقریب ایف آر پشاور اور دیگر ایجنسیوں کی طرح یہی پولیس رات کو ھماری گھروں کو سیڑی لگا کر ھماری چادر اور چاردیواری کی تقدس پامال کر ینگے..
انشاءاللہ ھم تمام قوم درہ آدم خیل ولایت آفریدی کے قربانیوں کو مزید تقویت دے کر بلجبر فاٹا انضمام کے خلاف مزید شدت سے آگے بڑینگے. اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ھے کہ یااللہ ھمارے بزرگوں کی پورانا فاٹا اور قومی رسم رواج دوبارہ بحال کرنے میں ھماری مدد فرمائیں. اور اللہ تعالیٰ ولایت آفریدی کا شہادت قبول کر کے انکو جنت الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین
Awaz e darra adam khel

No comments:
Post a Comment