دسویں صدی کے مشہور سائینسدان ابوریحان البیرونی کی لیبارٹری - Nadia Wafa

🌟 Welcome to [Nadia Wafa]'s Blog! 📝✨ Hey there, fellow adventurers of the digital realm! I'm [NADIA WAFA], your guide through the fascinating world of [Your Blog's Niche]. Whether you're a curious soul seeking inspiration, a knowledge-hungry learner, or just someone who loves a good story, you've landed in the right place. 🚀 Embark on a Journey with Me Thanks for stopping by, and I can't wait to embark on this exciting journey together! Happy reading, [Nadia Wafa] 🌟

Saturday, 2 July 2022

دسویں صدی کے مشہور سائینسدان ابوریحان البیرونی کی لیبارٹری












یہ کھنڈر ضلع جلہم کے شہر پنڈ دادنخان میں واقع ہیں۔ یہ کوئی عام کھنڈر نہیں یہ دسویں صدی کے مشہور سائینسدان ابوریحان البیرونی کی لیبارٹری ہے، جس میں انھوں نے ان پہاڑوں کی چوٹیوں کا استعمال کر کے زمین کی کل پیمائش کا صحیح اندازہ لگایا البیرونی کے مطابق زمین کا قطر 3928.77 تھا جبکہ موجودہ ناسا کی جدید کیلکولیشن کے مطابق 3847.80  ھے یعنی محض81 کلومیٹر کا فرق_ البہرونی نے ڈھائی سو سے زیادہ کتابیں لکھیں، وہ محمود غزنوی کے دربار سے منسلک تھے، افغان لشکر کے ساتھ کلرکہار آئے، افغانوں نے البیرونی کے ڈیزائن پر انکو یہ لیبارٹی بنا کر دی، 

‏اب سوچنے کی بات یہ  ہے کہ ہم اپنے ورثہ کی کیسے قدر کرتے ہیں، اس میں ماسوائے چند بکریاں چرانے والوں کے علاوہ کوئی نہیں جاتا، اگر اس کا خیال نہیں رکھا گیا تو بہت ہی جلد ہم اس عجوبہ سے محروم ہوجائینگے، اس کے علاوہ یہاں تک جانے کا راستہ بھی ٹھیک نہیں ہے، اس کے لئے تقریبا ایک گھنٹہ کا پیدل سفر کرنا پڑے گا، 

‏حکومت کو چاہیئے کہ دوبارہ سے ٹھیک کرے اور تعلیمی اداروں کو چاہیئے کہ Study Tours  ایسے تاریخی مقامات پر کروایا کریں۔  یہ جو سٹڈی ٹور مری، نتھیا گلی وغیرہ میں کیئے جاتے ہیں یہ صرف اور صرف تفریح ہی ہو سکتے ہیں  ان سے تعلیمی مقاصد حاصل نہیں کیئے جا سکتے، 

‏1974 میں سوویت یونین نے ابو ریحان محمد بن البیرونی پر ایک فلم بھی بنائی ھے جس کا نام ھے ابو ریحان البیرونی، البیرونی کی وفات 1050 میں غزنی افغانستان میں ہوئی اور یہی  آسودہ خاک ہیں




 

No comments:

Post a Comment